Skip to main content
باغات اور آبپاشی

نریاب ڈیم، میٹھے پھل اور گندم کے کھیت

وادی کی معیشت پہاڑی برساتی پانی کے ذخیرے، کشش ثقل سے بہنے والی ندیوں اور سیڑھی نما کھیتوں پر منحصر ہے جہاں خوبانی، آڑو، بیر، الوچہ اور گندم پیدا ہوتی ہے۔

نریاب سمال ڈیم کا پہاڑوں کے درمیان دلکش نیلگوں جھیل نما منظر
نریاب سمال ڈیم کا ذخیرہزیر کاشت رقبے میں 56 فیصد اضافہ
آبپاشی کا ڈھانچہ

ڈیم کا ذخیرہ اور نہری جال

شمالی گھاٹی میں نریاب سمال ڈیم بننے سے پہلے زراعت غیر یقینی موسمی بارشوں پر منحصر تھی۔ یہ ڈیم مون سون کے سیلابی پانی اور چشموں کو محفوظ بنا کر زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھتا ہے اور پورے سیزن میں باغات کو پانی دیتا ہے۔

زیر کاشت رقبہ+56%
زیر زمین پانی کا اضافہ+31%
نہروں کی قسمپختہ اور کچی ڈھلوان کھالیں
ڈیم کی سیر اور سیاحت کے بارے میں ←
نریاب میں کٹائی کے لیے تیار سنہری گندم کے کھیت
موسم ربیع کی سنہری گندمخزاں میں بوئی جانے والی اور مئی میں کٹنے والی گندم مقامی گھرانوں کی سال بھر کی روٹی اور خوراک کا بنیادی ذریعہ ہے۔
نریاب کے باغات سے اتاری گئی تازہ خوبانی اور پھل
موسم خریف کے میٹھے باغاتبہار کی دھوپ اور راتوں کی ٹھنڈک مل کر خوبانی، آڑو اور بیر کو بے مثال مٹھاس اور ذائقہ بخشتی ہیں۔
باغبانی و پیداوار

باغات کے پھل اور فصلوں کا کلینڈر

مئی سے جون

خوبانی (Khubani)

تازہ درختوں سے توڑی جاتی ہے یا دھوپ میں خشک کر کے موسم سرما کے مہمانوں کے لیے محفوظ کی جاتی ہے۔

مئی سے جون

الوچہ / بیر (Alucha)

لکڑی کی پیٹیوں میں پیک کر کے صبح سویرے کوہاٹ اور پشاور کی تھوک غلہ اور پھل منڈیوں کو بھیجا جاتا ہے۔

جون سے جولائی

آڑو (Aroo)

پہاڑوں کے دامن والے اونچے باغات میں پیدا ہوتا ہے جہاں موسم گرما کی راتیں معتدل اور ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

اکتوبر سے نومبر

جاپانی پھل / املوک (Amlok)

خزاں کے اواخر میں پکتا ہے جب پتے گرنے لگتے ہیں، جو سال کی آخری میٹھی باغبانی فصل فراہم کرتا ہے۔

روایتی و منصفانہ تقسیم

وارابندی کا روایتی نہری نظام

نریاب کی پہاڑی وادی میں جہاں پانی کی ہر بوند قیمتی ہے، آبپاشی صدیوں پرانے وارابندی نظام کے تحت چلتی ہے۔ ہر زمیندار خاندان اور قبیلے کے لیے ہفتے میں مخصوص گھنٹوں کا وقت مقرر ہوتا ہے جس دوران وہ نہری پانی اپنے کھیتوں کی طرف موڑتے ہیں۔

دن اور رات کے اوقات میں پانی کی باریوں کی نگرانی منتخب واٹر ماسٹر (میراب) کرتا ہے۔ خشک سالی کے دنوں میں تمام خاندانوں کی باریوں میں برابر کٹوتی کی جاتی ہے تاکہ کسی کسان کا باغ یا کھیت سوکھنے نہ پائے۔